Wednesday, January 28, 2026

Wazirabad - Dhaunkal

wazirabad , wazeerabad , dhaunkal , arooj , urooj , isha , esha , عشا , وزیرآباد , عروج  , دھونکل , وزیر آباد

وزیرآباد - دھونکل - 3 سالہ بچی عشا کو 25 سالہ سگی پھوپھو عروج  نے شادی کی راہ میں رکاوٹ بننے پے قتل کر ڈالا 

کچھ لوگ ایک 25 سالہ لڑکی عروج کا رشتہ دیکھنے کے لیے آئے ہوئے تھے. لڑکے کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا اور رشتہ طے کروانے والی خاتون نے دونوں فیملیز کو گرین سگنل دے رکھا تھا. لڑکے والوں کو عروج کی تصاویر پسند آ چکی تھیں

کچھ ہی دیر میں عروج ہاتھوں میں ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوتی ہے اور چائے میز پر رکھنے لگتی ہے. اس دوران ہی کمرے میں تین سالہ عشا دوڑتی ہوئی داخل ہوتی ہے اور عروج کو ماما، ماما کہہ کر پکارنے لگتی ہے

یہ منظر ان لوگوں کو مشتعل کر دیتا ہے جو رشتہ دیکھنے کے لیے آئے تھے. وہ کہتے ہیں کہ آپ کی بیٹی پہلے سے شادی شدہ اور ایک بیٹی کی ماں ہے اور یہ بات آپ لوگوں نے ہم سے چھپائی، ہم اپنے کنوارے بیٹے کا رشتہ ایک بچی کی ماں سے نہیں کرسکتے

عروج کی ماں اور دیگرافراد انھیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اس کی بیٹی نہیں بلکہ بھتیجی ہے. اس کی ماں ساتھ نہیں رہتی تو اس وجہ سے یہ اپنی پھوپھی کو ہی ماں کہتی ہے لیکن وہ لوگ نہیں مانتے اور ناراض ہو کر چلے جاتے ہیں

اس واقعہ کو گزرے تین روز ہی ہوتے ہیں کہ وہ تین سالہ عشا پراسرار طور پر لاپتہ ہو جاتی ہے

پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے اہلخانہ اور محلہ داروں کے کوائف اکٹھے کرنے شروع کیے اور مشکوک افراد کی الگ سے لسٹ بنانی شروع کی تاہم چند گھنٹوں بعد پولیس کو کال موصول ہوتی ہے کہ لاپتہ بچی کی لاش گھر کی عقبی گلی سے مل گئی

پولیس موقع پر پہنچی، کرائم سین انویسٹیگیشن اور پنجاب فرانزک سائنس کی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا اور موقع سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے گئے

مقتولہ بچی کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال وزیر آباد بھجوایا گیا جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں میڈیکل آفیسر نے قرار دیا کہ عشا کی ہلاکت ناک اور منہ دبانے کے باعث سانس رکنے سے ہوئی جبکہ اس کے سر کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی پائی گئی

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا کہ عشا کے ساتھ ریپ کے شواہد نہیں پائے گئے

ایسے میں تحقیقاتی ٹیم کے سامنے سب سے بڑا سوال پیدا ہوا کہ قاتل آخر کون ہو سکتا ہے جس نے اس قدر بے دردی سے قتل کیا اور اس تین سالہ عشا کے ساتھ اس قاتل کی کیا عداوت ہو سکتی ہے؟

اس گھر کا ایک دروازہ عقبی گلی میں بھی کھلتا تھا جس گلی سے عشا کی لاش ملی تھی. جہاں سے لاش ملی تھی اس کا فاصلہ پھوپھی عروج کے دروازے سے محض سات سے آٹھ فٹ تھا

سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر سردارغیاث گل خان نے بتایا کہ بچی کی پھوپھی عروج سے دو تین افسران نے الگ الگ پوچھ گچھ کی تھی جس میں اس نے متضاد بیانات دیے تھے

تحقیقاتی افسران نے سارے کرائم سین کو ایک نفسیاتی حربے کے تحت ملزمہ عروج کے سامنے دہرایا تو اس نے اعتراف جرم کر لیا

سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر سردارغیاث گل خان نے بتایا کہ ملزمہ عروج کوئی پیشہ ور جرائم پیشہ خاتون نہیں اور ان کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں پایا گیا، ایسے میں نفسیاتی حربے کے طور پر جب اس کے سامنے کرائم سین دہرایا گیا تو وہ سمجھ گئی کہ وہ پھنس گئی ہیں اور انھوں نے روتے ہوئے سب کچھ بتا دیا

عروج کا کہنا تھا کہ عشا کی وجہ سے میرا رشتہ نہیں ہو پا رہا تھا کیونکہ دو تین بار لوگ رشتہ دیکھنے کے لیے آتے تھے اور تب عشا مجھے ماما، ماما کہہ کر بلاتی تھی، جس پر رشتہ دیکھنے کے لیے آنے والے لوگ شش و پنج میں پڑ جاتے تھے اور انھیں شک گزرتا تھا کہ عروج شادی شدہ ہو گی اور یہ بچی کی پھوپھی نہیں بلکہ ماں ہے اور یہ لوگ شاید دھوکہ اورغلط بیانی کر رہے ہیں

بار بار رشتہ ہوتے ہوتے رک جانا میرے ڈپریشن میں اضافے کا باعث بن رہا تھا. اور اسی ڈپریشن میں میں   نے اپنی بھتیجی عشا کو مار ڈالا

wazirabad , wazeerabad , dhaunkal , arooj , urooj , isha , esha
عشا , وزیرآباد , عروج  , دھونکل , وزیر آباد 

#Wazirabad #Dhaunkal #Wazeerabad 
#وزیرآباد 
#وزیر_آباد 
#دھونکل 

wazirabad , wazeerabad , dhaunkal , arooj , urooj , isha , esha , عشا , وزیرآباد , عروج  , دھونکل , وزیر آباد